نئی دہلی، 16؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )عوامی علاقے کی تیل کمپنیوں نے پٹرول کی قیمت میں 2.26روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 1.78روپے فی لیٹر کے اضافہ کے پروگرام کو فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پٹرولیم کارپوریشن اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن (ایچ پی سی ایل)ہر مہینے کی یکم اور 16تاریخ کو گزشتہ پندرہ دنون میں بین الاقوامی بازار میں اوسط قیمت کی بنیاد پرقیمتوں میں ترمیم کرتی ہیں ،حالانکہ بین الاقوامی بازار میں گیسولین (پٹرول )کی قیمت 57.43ڈالر سے بڑھ کر 62.82ڈالر فی بیرل ہونے اور ڈیزل کی قیمت 56.79ڈالر سے بڑھ کر 60.97ڈالر فی بیرل ہونے کے ساتھ گھریلو بازار میں قیمت میں اضافہ ضروری تھی لیکن کمپنیوں نے اس بارے میں فیصلہ ٹال دیاہے ۔حکام کے مطابق ،بین الاقوامی بازار میں قیمت میں اضافہ کے بعد روپے کے ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہو کر 68.23روپے سے 68.05پر آنے سے تھوڑی راحت ملی، اس سے پٹرول کی قیمت میں 2.26روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 1.78روپے فی لیٹر اضافہ کئے جانے کی ضرورت تھی۔اس اضافہ میں مقامی فیس شامل نہیں ہے۔ویٹ کو شامل کرنے پر پٹرول کے معاملے میں اصلی اضافہ تقریبا 2.90روپے فی لیٹر اور ڈیزل میں 2.10روپے لیٹر ہوتا ۔فی الحال دہلی میں پٹرول 66.10روپے اور ڈیزل 54.57روپے فی لیٹر ہے۔اس سے پہلے، یکم دسمبر کو قیمتوں میں تبدیلی کی گئی تھی،اس وقت پٹرول کی قیمت میں معمولی 13پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 12پیسے کی کمی کی گئی تھی، آئی او سی کے چیئرمین بی اشوک نے قیمت میں اضافہ کا پروگرام ملتوی کئے جانے کے بارے میں کہاکہ کسی خاص تاریخ پر ہی قیمت میں تبدیلی ضروری نہیں ہے ، ہم مسلسل اس کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور مناسب وقت پر ہم مناسب فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی بازار میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور کافی کچھ ہو رہا ہے، ہم سب چیزوں پر غور کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے ۔حالانکہ صنعتی ذرائع نے بتایا کہ یہ ایک یا دو دن کے لیے ہو سکتا ہے ،کیونکہ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس چل رہا ہے اور کسی بھی اضافہ سے حکومت کے لیے پریشانی کھڑی ہوجاگی ، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نوٹ بند ی کی وجہ سے کیش کے مسئلے کو لے کر وہ نشانے پر ہے، اس نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس آج ختم ہو رہا ہے اور قیمتوں کا جائزہ جلدہی لیا جا سکتا ہے۔